اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر اے عشق ہمیں ب…

اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر
اے عشق نہ چھیڑ آ آ کہ ہمیں
ہم بھولے ہوئوں کو یاد نہ کر
پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم
تو اور ہمیں ناشاد نہ کر
قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ
یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر
یوں ظلم نہ کر بے داد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر
راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے ہیں
رو رو کہ دعائیں کرتے ہیں
آنکھوں میں تصور دل میں خلش
سر دھنتے ہیں آہیں بھرتے ہیں
اے عشق یہ کیسا روگ لگا
جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں
ان خابوں سے یوں آزاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر
جس دن سے بندھا ہے دھیان تیرا
گھبرائے ہوئے سے رہتے ہیں
ہر وقت تصور کر کر کہ
شرمائے ہوئے سے رہتے ہیں
کمبھلائے ہوئے پھولوں کی طرح
کمبھلائے ہوئے سے رہتے ہیں
پامال نہ کر بے داد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر
Advertisements

No comments yet»

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: